SIZE
2 / 7

" دیکھو مایا! میں پہلے بھی بتا چکا ہوں کہ میں ان چکروں میں پڑنے والا نہیں۔۔۔۔ میں وہ پنچھی ہوں جو محبت کا دانہ چگے گا تو اس کے لیے زہر بن جاے گا۔"

وہ کتاب سینے سے لگائے ہوئے اس کے قریب آئی تھی۔۔۔۔ " محبتوں کی صداقت کے قصے تو ضرور سنے ہوں گے۔۔۔۔ نہیں ملو گے تو دعا سے مانگ لوں گی۔ خدا مجھے مایوس نہیں کرے گا۔"

صبح زرد زرد سی طلوع ہوئی تھی۔ وہ چرچ میں بیٹھی مقدس مریم کی تصور سے راز ونیاز کر رہی تھی۔۔۔۔ دور کہیں فٹ پاتھ کے بغلی پارک میں کوئی نو اموز لڑکا گٹار بجانے کی مشق کرنے میں مصروف تھا۔ مگر سُر تھے کہ مل ہی نہیں رہے تھے۔اس اندھے لڑکے میں اور مایا میں ایک چیز مشترک تھی کہ دونوں ضد کے پکے تھے۔ نہ وہ گٹار بجانے سے دستبردار ہو سکتا تھا اور نہ ہی مايا دعائیں کرنا چھوڑ سکتی

تھی۔۔۔۔ موم بتی کی مہک سارے مین پھیل کر چرچ کے گنبد میں گم ہو رہی تھی۔۔۔۔

" مقدس مریم! یہ میری آپ کے پاس آخری حاضری ہے۔۔۔۔ آپ کی دعا سے ہزاروں کو " محبت" مل جاتی ہے۔ ایک سال دو مہینوں سے دعا کر رہی ہوں۔ میرے آنسوؤں سے موم بجھ جاتی ہے مگر وہ مرزا ملک مٹی کا مادھو پگھلتا ہی نہیں ہے ۔۔۔۔۔ اور وہ کمینہ جوڈی میری محبت پر آوازیں کستا ہے کہ میری محبت میں "طاقت" نہیں۔۔۔۔ اور میری محبت میں "اثر" نہیں۔۔۔۔ سو کمینے مرے ہوں گے تب وہ پیدا ہوا ہو گا۔۔۔۔۔ مجھے پتا ہے چرچ میں ایسی باتیں کرنا زیب نہیں دیتا مگر جلے دل کے پھپھولے کہاں پھوڑے جائیں آخر۔۔۔۔؟"

دو زانو بیٹھی وہ قطرہ قطرہ پگھلتی موم پر نظر جماۓ بیٹھی تھی۔۔۔۔ دور سے گٹار کی آواز مدهم ضرور ہوئی تھی مگر مکمل طور پر کم نہیں ہوئی تھی۔۔۔۔

" محبتوں کے سفر ہمیشہ ہی طویل ہوتے ہیں مگر اب میں تھکنے لگی ہوں' وہ سنہری آنکھوں والا مرد میری "زندگی" بن گیا ہے۔ ساری زندگی دوسروں کی محبتوں پرببانگ دہل قہقہے لگانے والی آج چپ ہے۔ محبتوں میں چپ معمولی ہوتی ہے اور دعا " سانس" ہوتی ہے۔

مجھے محبت محبوب کی چوکھٹ کے سامنے رسوا کراتی ہے۔ محبت میں رسوائی کیوں ہوتی ہے۔“ مایا کی آواز میں مرگھٹکے پار رہنے والی گلوکارہ خضریٰ کی سی اداسی تھی۔۔۔۔ خضریٰ روز ریت کے ٹیلے پر

" محبوب ' محبوب" کی صدائیں لگاتی رہتی تھی' محبوب نہ آیا تھا مگر موت نے آ لیا تھا موت سے میں نہیں ڈرتی۔۔۔۔ مگر پھر بھی کبھی تو ایسا ہو کہ مرزا ملک کی آنکھوں میں محبت چھلکتی ہوئی نظر آۓ۔۔۔۔ میں بھی تو دیکھوں محبت جب آنکھوں میں آن بسے تو آنکھوں کا رنگ کیسا ہوتا ہو گا۔۔۔۔ ان سنہری آنکھوں میں محبت کیسی ہو گی۔"

مٹیالی ہوا کے زبردست جھونکے سے موم کا شعلہ دم توڑ گیا مگراس کا کثیف سا دھواں چرچ کی عمارت میں چکراتا رہ گیا۔۔۔۔ حیرت در حیرت۔۔۔۔ دائرہ در دائرہ ۔۔۔۔

زندگی میں کچھ چیزیں قابل برداشت اور نا قابل برداشت

کے درمیان پنڈولم کی طرح گھومتی رہتی ہے۔

اور جب بھی مایا کا ٹکراؤ جوڈی سے ہوتا تھا یہی کیفیت عود کر آتی تھی۔۔۔۔ وہ لمبے سرو قد درختوں کے درمیان والے راستے سے چرچ سے ہو کرگھر کی طرف خراماں خراماں چلتی جا رہی تھی۔۔۔۔ جوڈتھ بھی دبے پاؤں ساتھ چلنے لگا۔