SIZE
2 / 9

ماں گھبرائی۔ " بتا گڈو کیا ہوا ہے۔۔۔۔ کسی نے کچھ کہا ہے۔۔۔۔ لڑائی ہوئی ہے دوستوں سے۔" ماں کی بے تابانہ محبت دیکھ کر میرے آنسوؤں میں روانی آ گئی۔

" ماں! اس چڑیل نے آج پھر ہماری گیند چھین لی۔ محلے میں یہ ہمیں کھیلنے نہیں دیتی تو باہر جانے نہیں دیتی۔ کیا اب ہم اپنے محلے میں کھیل بھی نہیں سکتے۔" میں ماں کے سینے سے چمٹ کر ہچکیوں کے درمیان بولا تو ماں

نے کچھ جواب نہ دیا صرف میری کمر سہلاتی رہی۔

تھوڑی دور بعد طوفان تھما۔ باہر کا بھی اندر کا بھی۔۔۔۔ مجھے یقین تھا کہ جاوید کی ماں ہی تھک ہار کر اپنے گھر چلی گئی ہو گی اب صرف چڑیل کی تیز آواز سنائی دے رہی تھی۔ ماں نے میرا چہرا اپنے ہاتھوں میں لیا اور کچھ لمحے مجھے دیکھتی رہی پھر میرا ماتھا چوم لیا۔

" بس! اتنی سی بات پراتنے آنسو۔"

" ماں! یہ اتنی سی بات نہیں ہے ' یہ ہماری آٹھویں بال تھی جو اس نے چھین لی۔ تجھے پتا بھی ہے کہ ایک گیند کتنے کی آتی ہے۔۔۔۔۔ تیس روپے کی۔۔۔۔ اور ہم سب کا روز کا جیب خرچ کتنا ہے۔۔۔۔ پانچ روپے۔۔۔۔۔ میں نے دو دن بریک میں کچھ نہیں کھایا' میرے دوستوں نے بھی کچھ نہیں کھایا۔ تب جا کر ہم نے یہ گیند خریدی تھی جو اس جکھی بڑھیا نے چھین لی۔" میں دوباره رویا۔

" اچھا نا۔۔۔۔ رو مت۔۔۔۔۔ میرے پاس پیسے ہیں میں دوں گی تو نئی گیند لے آنا۔" ماں نے دلاسہ دیا۔

" ماں تیرے پاس پیسے کہاں سے آئے۔۔۔۔ ابا دو دن سے کام پر ہی نہیں گیا۔"

" وہ تیرا قرآن ختم ہونے والا ہے نا تو مدرسے میں شیرینی کی تقسیم کے لیے رکھے تھے۔ پر تو لے لے' کوئی بات نہیں ۔۔۔۔ میں اور جمع کر لوں گی۔" ماں نے ہچکچاتے ہوۓ جواب دیا۔

" نہیں ۔۔۔۔ میں اب گیند نہیں لوں گا۔۔۔۔ اس دفعہ تو میں بدلہ لوں گا بس بہت ہو گئی۔"

" کیا کرے گا؟" ماں کی آنکھیں پھیل گئیں۔

" یہ تو مجھے بھی نہیں پتا کہ کیا کروں گا مگر بدلہ ضرور لوں گا۔"

" چچ چچ ۔۔۔۔۔ کتنی بری بات ہے۔ اتنی بڑی ہے وہ تجھ سے بلکہ وہ تو مجھ سے بھی بڑی ہے۔۔۔۔ اب بڑوں سے کوئی بدلہ لیتا ہے کیا؟ اور سب سے اچھا بدلہ بتاؤں کیا ہے۔۔۔۔ معاف کر دینا۔۔۔۔۔ معاف کر دو تو دشمن خود اپنی نظروں سے گر جاتا ہے۔"

میں روتے روتے ہنس پڑا۔ " ابے یار ماں' بس اب چپ ہو جا تو۔ مجھے یا الٹی سیدھی پٹیاں نہ پڑھا۔ میں اب بڑا ہو گیا ہوں۔ ساتویں جماعت میں اول آیا ہوں۔۔۔۔ آٹھویں میں گیا ہوں آٹھویں میں۔"

" ارے چھوڑ نا گڈو۔۔۔۔ ویسے بھی دو دن بعد تو ہم لوگ جا ہی رہے ہیں ۔۔۔۔۔ اب لڑ جھگڑ کر جائے گا کیا؟"

" ہم جارہے ہیں۔۔۔۔۔ کہاں!" میں نے حیرت سے ماں کو دیکھا۔

" میرپور' میرے تایا کے گھر۔ تیرے ابا کا ویزا لگ گیا ہے نا تو وہ سعودیہ جا رہا ہے اور سعودیہ جانے کے لیے بہت سارے پیسوں کی ضرورت ہوتی ہے تب ہی تیرے ابا نے یہ گھر بیچ دیا ہے۔ اب ہم میر پور میں ہی رہیں گے اور تیرا ابا جب محنت کرکے وہاں سے پیسے بھیجے گا تو میں تجھے بہت اچھے اسکول میں داخل کراؤں گی۔۔۔۔ پھر تو وہاں سے بہت بڑا بابو بن کر آئے گا۔" ماں خواب دیکھتے دیکھتے بہت دور' بہت آگے نکل گئی تھی۔

مجھے اس کی آواز بھی سنائی نہیں دے رہی تھی۔ میرے سامنے تو صرف جھکی بڑھیا تھی۔

" جھکی بڑھیا۔۔۔۔ اس چڑیل کا یہ نیا نام مجھے بہت پنسد آیا تھا۔

میں' نعمان اور جاوید تینوں اسی بلڈنگ میں رہتے تھے۔ ہماری ٹیم کے باقی لڑکے سامنے کچی' بستی میں رہتے تھے۔ ہمارے گھر والوں نے ہمیں کبھی گلی میں کھیلنے کی اجازت نہیں دی تھی۔ اور ہماری بلڈنگ' آج کل کی بلڈنگوں جیسی نہیں تھی جو اوپر ہی اوپر چلتی جاتی ہیں' بلکہ یہ صرف گراؤنڈ اور فرسٹ فلور پر مشتمل تھی اور تمام گھر فلیٹوں کی طرح نہیں تھے بلکہ یہ گولائی کی طرز میں بنی ہوئی تھی۔ اسی باعث گراؤنڈ فلور اچھے خاصے میدان کی صورت میں تھا۔ اور ہم کرکٹ کا شوق وہیں کھیل کر پورا کیا کرتے تھے اور کون سا ہر وقت کھیلتے تھے دو مہینے کی چھٹیوں ہی میں تو کھیلتے تھے وہ بھی اس جھکی بڑھیا کو گوارا نہ تھا۔