SIZE
3 / 19

" نور وگل اور مہمیز۔" اس نے دونوں کو کو ایک ساتھ سوچا اور یہ بھی کہ کے دونوں باغ میں چھپ کر ملتے ہیں جیسا کہ باڑے کی صفائی کرنے والے لڑکے سرگوشیوں میں باتیں کرتے ہیں۔ سارا گاوں جانتا ہے کہ دونوں باغ میں چھپ کر ملتے ہیں۔ جب نورو گل' مہمیز کا ریشمی رومال اپنے سرپر پیٹ لیتی ہے تو سب جان جاتے ہیں کہ وہ آۓ گا اور وہ آتا ہے۔ جنوب کی ہواؤں کو روک کر آنا ہو یا شمال کی ہواؤں کو سوار بنا کر۔۔۔۔ وہ آتاہے۔" دینار ایسی سرگوشیاں سنتی ہے اور وہ پوری کہانی بنا لیتی ہے۔ وہ مہمیز کے لیے دعائیں کرتی ہے کہ وہ جنوب کی ہواوں کو روک کر شمال کی ہواؤں کو سوار بنا کر نورو گل کے لیے آ جائے۔

" کیا نورو گل اور مہمیز کی شادی ہوجائے گی؟"

" ان کی شادی ضرور ہو جانی چاہیے۔۔۔ میں مہمیز کو پسند کرتی ہوں وہ خاندانی رنجشوں کو بے کار سمجھتا ہے۔"

" کیا نورو گل بہت دور دوسرے گاؤں چلی جاۓ گی۔" دینار نے ایک جدائی جو نورو کی ماں ہی اس کے لیے محسوس کر سکتی تھی سے دکھی ہو کر پوچھا۔ ایک ایسی سہیلی کے لیے جو بے قاعده بنی تھی نا قاعدہ۔

" مہمیز کے ساتھ اسے جانا ہی ہو گا دینار۔۔۔ یہی رسم ہے۔"

" پھر اس باغ کیا ہوگا جہاں وہ ملتے ہیں۔" اس نے شرارتاََ کہا۔ مہتابی ہنس دی۔

" میں نورو اور مہمیز کی شادی میں ضرور جاؤں گی ۔۔۔۔ بی بی۔۔۔ سن لو۔۔۔۔"

" میں ضرور لے جاؤں گی تمہیں' میں تو پہلے ہی وعدہ کر چکی ہوں۔" مہتابی نے ہنسے بنس کہا۔ ایسی باتوں پر ہنسی کہاں آتی ہے۔

" حدیثہ ماں کے ساتھ جا کر میرے لیے ریشم لے آنا ۔ معرفت خالہ کو دے آنا' کہنا اس پر ویسے ہی پھول کاڑھ دیں جو سمر قند کے بازاروں میں جنت کے پھولوں کے نام سے جانے جاتے ہیں۔ میں نورو گل کی شادی میں ایک بہترین لباس پہننا چاہتی ہوں۔"

" میں ریشم لے جاؤں گی۔ مجھے بنفشی رنگ پسند ہے' مدینہ نے اپنی شادی کے دن پہنا تھا۔"

دینار شرما گئی۔ کیسے اشارے سے مہتابی نے اس کی شادی کا ذکر بھی کر دیا تھا۔ ٹھیک ہے اسے بھی ایک دن دلہن بننا ہے۔ ہر لڑکی کی طرح وہ بھی اس دن کے خواب دیکھتی ہے۔ وہ رنگوں کو نہیں جانتی لیکن ان کے احساس کو جانتی ہے۔ وہ جان چکی ہے کہ دلہن رنگ سے نہیں سنگ سے بنتی ہے۔ پھر وہ کوئی بھی رنگ پہن لے وہ دلہن رنگ بن جاتا ہے۔ ماں بھی اس کی شادی ذکر کرتی رہتی ہیں۔ وہ ایک اچھے لڑکے کی تلاش میں بھی ہیں۔

" کس کی شادی کا ذکر کر رہی ہو مہتابی؟" حدیثہ خانم کی کھردری گونج دار آوازنے دینار کے اندر سمٹ آئے عروسی رنگ کے احساس کو تہہ و بالا کر دیا۔ وہ سہم گئی اور مہتابی بھی۔ وہ دونوں باتوں میں اتنی محو تھیں کہ گھوڑے کے ٹاپوں اور چمڑے کے سخت کھردرے چاپ سن نہ سکیں۔