میرے رونے سے خالہ پریشان ہو گئیں . مجھے سمجھانے کے جتن کرنے لگیں . امان بھی آ گیا اور مجھے بہلانے لگا . میں بہل جاتی اگر میرے ولیمے کا دن زندگی میں پھر کبھی دوبارہ آ جاتا . یہ دن کوئی بار بار آتے ہیں . جس نظر سے مہمان مجھے آج دیکھیں گے نا . فوٹو سیشن ہو گا ' مووی بنے گی . عریشہ آپا مجھ سے زیادہ حسین لگیں گی .پھاڑ کر پھینک نہ دوں گی میں ایسا فوٹو البم جس میں ' میں کسی سے کمتر لگوں . زہر کھا کر مر جاؤں گی جو کسی نے عریشہ کی مجھ سے زیادہ تعریف کر دی .
تین چار گھنٹے تک میرے اور امان کے درمیان کشمکش چلتی رہی . کچھ مہمانوں کے کانوں میں بھی بھنک پڑی اور خالہ نے امان سے خود کہا کہ وہ مجھے جیولر کے پاس لے جاۓ . زرکار جیولرز سے اپنا من پسند سیٹ لے کر میں سیدھی پارلر پہنچ گئی . عریشہ ہزار جتن بھی کر لیتی تو مجھ سے زیادہ حسین نہیں لگ سکتی تھی اور ہوا بھی یہ ہی .... ہر کسی نے میری تعریف کی . عریشہ کی ساس تک میرے حسن کی مدح سرائی کر رہی تھیں اور یوں برات کی دلہن کے پہلو میں بیٹھے ' ولیمہ ہی دلہن نے محفل لوٹ لی .
میری گردن فخر سے مزید اکڑ گئی . یہ فخر و غرور کے موقعے پیدا کے جاتے ہیں ' خود بخود جھولی میں نہیں آ گرتے .
" اپنی خالہ کی طرف آ جایا کرو بیٹا ! اس بیوہ نے مشکلوں بھری زندگی گزار کر امان کو پروان چڑھایا ہے . چار چھوٹے چھوٹے بچے ' اکیلے ' تن تنہا پالے ہیں تمہاری خالہ نے . اس بوڑھے درخت کا اکلوتا پھل ہے امان . اس کا بڑا حق ہے تم دونوں پر ' بڑا حق ہے اس بوڑھے وجود کا."
ابا اکثر مجھ سے کہتے رہتے . مجھے بڑا غصہ آتا تھا . ابا بھی ناں بس ! موقع دیکھتے ہیں نہ جگہ . شروع ہو جاتے ہیں .
" اماں ! ابا کو منع کر دیں روز روز مجھے نصیحتیں نہ کیا کریں . خاص کر امان کے سامنے . نہیں جانا چاہتی میں خالہ کے گھر ."
" سو بار منع کیا ہے میں نے بیٹا مگر ان کی عادت ہی ایسی ہے ' گھر کو بھی مسجد سمجھتے ہیں . کتنی بار کہہ چکی ہوں کہ وہ اپنی مرضی کی مالک ہے . جانا چاہے گی تو چلی جاۓ گی ورنہ کون اس پر اپنا حکم چلا سکتا ہے . الٹا مجھے ٹوکتے ہیں کہ تمہیں سمجھاتی نہیں ہوں . کہتے ہیں تمہاری سگی بہن ہے ' اپنی بیٹی سے کہو بہن کی خدمت کرے . کیوں کرے میری بیٹی کسی کی خدمت ."
اماں مجھ سے زیادہ خالہ سے بیزار تھیں .
امان ایک پرائیویٹ فرم میں مینجنگ ڈائرکٹر تھے . پر کشش تنخواہ کے ساتھ گاڑی بھی ملی ہوئی تھی . انہوں نے گھر میں کل وقتی ملازمہ رکھ دی تھی . ہم کبھی خالہ کے گھر بھی چلے جاتے تھے ' ورنہ امان گاڑی میں ان سب کو بھر کر لے آتا . شادی سے پہلے ہی میرا الگ ہو جانا خالہ کو کھلا تو بہت تھا ' مگر مجھ پر کوئی زور نہیں چلا تھا . امان مجھ سے بہت محبت کرتے تھے . وہ کسی صورت اسے چھوڑ نہیں سکتے تھے . ہاں البتہ انہوں نے اپنی ماں کو چھوڑ دیا اور یہی ماں کو برا لگا . جب خالہ کو امان خرچہ دے رہے تھے تو انھیں بیٹے کی خوش باش زندگی پر اعتراض کیوں تھا ؟ مجھے تو یہ بوڑھے لوگ سمجھ میں نہیں آتے . اپنی زندگی گزار لیتے ہیں ' ہمیں ہماری زندگی ہماری مرضی سے گزارنے نہیں دیتے .