عرشی آپا کے گھر بیٹا ہوا تھا . وہ خالہ کے پاس تھیں . امان کو نجانے کیوں بھانجے سے اتنی محبت ہو گئی تھی کہ کہ روز ہی وہاں پہنچ جاتے . میں زیادہ بہانے کرتی تو خود تو ہی اکیلے چلے جاتے ' مگر میں پوری کوشش کرتی کہ وہ زیادہ دینا دلانا نہ کریں . خالو کی ٹھیک ٹھاک پنشن تھی اور زمین کی آمدنی الگ . اب ہر چیز امان کی ذمہ داری تو نہیں تھی ناں!
" انسان بڑی عجیب مخلوق . عنایات کی بارش ہوتی رہے تو تو اسکو اپنا حق جان کر وصول کرتا ہے ' دینے کی باری آتی ہے تو بوجھ سمجھنے لگتا ہے . بس یہی وقت ہوتا ہے غفلت کا . شکر کی طرف توجہ کرو میری بچی شکر کی طرف ."
میں امان کے کھلے ہاتھ کا شکوہ اماں سے کر رہی تھی کہ ابا نے سن لیا اور مجھے سمجھانے لگے .
" کرتی ہوں شکر ابا . نا شکری نہیں ہوں میں ." میں بلاوجہ ہی چڑ گئی .
" آپکو اتنا برا لگتا ہے میری بچی کا آنا تو نہیں آئے گی دوبارہ . ہر وقت نصیحتیں ...." اماں بھی شروع ہو گئیں .
ابا تاسف سے سر ہلاتے رہ گئے ." اسے سمجھانے کی بجائے تم اسے بڑھا دیتی ہو ."
" جتنی پیاری یہ مجھے ہے ' میرا دل کرتا ہے ویسی ہی پیاری بن جاۓ مالک کل کے حضور . میں تو بس یہی چاہتا ہوں .سج جاۓ اس کا پیرا وجود نیکی کی روشنی سے . چمک جاۓ اس کا اعمال نامہ . برا چاہتا ہوں کیا ؟ تم بھی اس کو نیکی کی بات سمجھایا کر و . چھری سے چھری ٹکراتی ہے تو اس کی اب برقرار رہتی ہے ."
شادی کی سالگرہ آئی تو میں نے سرپرائز پارٹی ارینج کی . صرف میں اور امان . پیور شیفون کی پلین سرخ ساڑھی خریدی تھی اس دن کے لئے میں نے . وائٹ گولڈ کی پازیبیں میرے پیروں میں پہناتے ہوئے ان کے الفاظ مجھے اپنے نام کی طرح ہمیشہ یاد رہے .
" تم میری زندگی کی بہار ہو ناجیہ ."
" اور آپ میری زندگی کی امان ."
ان ہی دنوں میری طبیعت خراب ہو گئی . ڈاکٹر کے پاس پہنچے تو اس نے خوش خبری سنائی . امان ' اماں اور خالہ پہلے سے بڑھ کر مجھ پر نثار ہونے لگے . میرے قدموں تلے ہتھیلیاں رکھتے . مجھے پھولوں کی طرح سنبھالتے . اماں تو تقریبا روزانہ ہی میری طرف آ جاتی تھیں . پھر جاں فزا نے میری گود میں آ کر زندگی کو مزید خوب صورت بنا دیا .
امان کی پروموشن ہو گئی . وہ ڈائرکٹر بن گئے تھے . وہ جاں فزا کو بہت خوش قسمت کہتے تھے . بہت لاڈ اٹھاتے اس کے اور میرے بھی .ان ہی دنوں آمنہ اور آمنہ کی شادیاں ایک ہی گھر میں دو بھائیوں سے طے ہو گئیں . بقول خالہ شریف لوگ تھے ' سادہ اور سفید پوش . کراۓ کا گھر تھا .