Pages 12
Views196
SIZE
4 / 12

کرن کی پندرہ سالہ زندگی میں ایک انقلاب آ گیا . اسکی مما بغیر کچھ کہے اچانک اس دنیا سے ہمیشہ کے لئے چلی گئیں. وہ بہت روئی... بہت چیخی ... پھر بھی جاتی ہوئی ماں کو روک نہ سکی .جب ذرا ہوش آیا تو وہ درخت کے سا ئے میں اکیلی جھولے پر بیٹھی تھی . کپڑے شکن آلود تھے . بال پریشان تھے ، اور آنکھیں سوجی ہوئی تھیں .قدم بھاری تھے . نجانے کتنی دیر وہ آنکھیں بند کے بیٹھی رہی .پھر اسے ایسا لگا جیسے درخت نے اسے اپنی بانہوں میں لے لیا ہو .اس کی شاخیں ، اس کے پتے اس کے ارد گرد لپٹ گئے ہوں کچھ دیر کے لئے وہ بھول ہی گئی کہ اس کے ساتھ کیا ہوا ہے اور وہ کہاں ہے .

" کرن بیٹے باہر خنکی بڑھ رہی ہے اب کمرے میں آ جاؤ . سب لوگ تمہارا انتظار کر رہے ہیں ." یہ پپا کی آواز تھی .

اس نے دکھ سے سوچا کہ کون میرا انتظار کر رہا ہے .....؟

" پپا مجھے یہیں رہنے دیں . مجھے لگتا ہے جیسے مما میرے پاس بیٹھی ہیں ."

" نہیں بیٹا ضد نہیں کرتے کل صبح پھر یہاں آ جانا . ہم دونوں یہاں بیٹھیں گے اور بہت سی باتیں کریں گے اب اندر چلو . میں جانتا ہوں کہ تمہارا اور تمہاری مما کا بہت سا وقت یہیں گزرتا تھا ."اب پپا اس کے نزدیک کھڑے اسے کہہ رہے تھے .

کرن اٹھ گئی . کمرے میں جا کر ماں کی بڑی سی تصویر کے سامنے سے گزری تو اسے لگا جیسے مما کہہ رہی ہوں .

" کرن یہ کیا حالت بنائی ہوئی ہے ....؟ میں کہیں گئی تو نہیں ہوں . ہر وقت تمہارے ساتھ ہوں . چلو جا کر منہ ہاتھ دھو اور سب کے ساتھ کھانا کھاؤ ."

یوں کرن کی زندگی کا پہلا باب ختم ہوا اور دوسرا شروع. زندگی کے شب و روز معمول پر آ گئے . اس نے سمجھوتہ کر لیا مگر شوخی ہوا ہو گئی . سکول سے واپس آ کر چپ چاپ درخت کے نیچے جھولے پر بیٹھ جاتی اور آنکھیں بند کر لیتی . اسے لگتا کے اس کے ساتھ اس کی مما آ کر خاموشی سے بیٹھ گئی ہیں . کبھی لگتا کہ درخت اسے دلاسا دے رہا ہے . اور کہہ رہا ہے .

" یہاں ہر کوئی مسافر ہے . چل رہا ہے . ہر موڑ پر نیا سین ، نیا مسافر ، نیا ماحول بس خود کو ہلکا سا بدلنا پڑتا ہے . پھر سبھی کچھ اپنا اپنا لگنے لگتا ہے کچھ بھی اجنبی نہیں رہتا ہے . زندگی آسان ہو جاتی ہے اور اگے بڑھنے کا حوصلہ بڑھ جاتا ہے ' مجھے دیکھو میرے اوپر کوئی سائبان نہیں ہے میں آسمان کے نیچے کھڑا ہوں . ہر روز سورج اپنی پوری گرمی کے ساتھ چمکتا ہے اگر میں اپنے اندر برداشت پیدا نہ کروں تو میرے سارے پتے جل کر مر جائیں.... میری شاخیں سوکھ کر لٹک جائیں اور میں بے بسی سے دم توڑ دوں . تمہیں یاد ہے جب میں اور تم چھوٹے سے تھے تو میرا وجود ہوا کے ہلکے سے جھونکے کو بھی برداشت نہیں کر سکتا . تیز بارش مجھے بار ، بار زمین سے اکھیڑ دینا چاہتی تھی . میں گر ، گر پڑتا تھا .لیکن میرے اندر ایک عزم تھا . زندہ رہنے کا عزم ..... میں گر کر بھی کھڑا ہو جاتا تھا . میرا ناتواں دھاگے کی طرح باریک وجود .... ایک عزم ، ایک خواہش کی وجہ سے زندہ رہا اور آج تمہارے سامنے ایک ایسا تناور درخت ہوں جس کے ساۓ میں سب بیٹھتے ہیں . میری دوست تم بھی ہمت کرو ایک نئے عزم کے ساتھ نئے حالات کا مقابلہ کرنے کے لئے کھڑی ہو جاؤ . سب کچھ تمہارا ہی تو ہے اور سب سے بڑھ کر یہ زندگی تمہاری ہی تو ہے ."