یہ بانسری اس دن زرا عجیب دھن میں بچی جس دن جواد بھائی کی اماں اور ابا اۓ۔ ہم تینوں لاؤنج میں کیرم کھیل رہے تھے کہ السلام و علیکم کی اواز سے چونکے۔ وعلیکم السلام تو ہم تینوں نے اتنی حیرت سے کہا کہ ہماری حیرت بھانپ کر ہنستے ہوۓ جواد بھائی کے ابو بولے۔
" کیوں بھئی واپس چلے جائیں ۔" بڑھ کر ہمارے سروں پر ہاتھ بھی رکھا۔
امینہ باجی مسکرا کر بولیں۔ " آئیے آئیے" اور ان کو لے کر بیٹھک کی طرف بڑھ گئیں اور ہم فورا پہنچے اندر۔۔۔۔
تائی اماں کو بتا کر ان کو بیٹھک کی طرف روانہ کیا اور کچن میں گھس کر سوچنے لگے کہ مہمانوں کی تواضع کیسے کی جاۓ ۔اس وقت گھر میں کوئی مرد نہیں تھا۔ امینہ باجی بھی مہمانوں کو بٹھا کر کچن میں چلی ائیں اور بولیں ۔
" صوفیہ ! تم زرا مہمان داری والی کیبنٹ تو کھولو۔"
اسے کھول کر دیکھا تو صرف بسکٹ اور نمکو پڑے تھے۔
" ہمارے گھر رات کے کھانے کے لیے کچھ شامی کباب رکھے ہیں۔"
میں امینہ باجی کا جواب سنے بغیر اپنے پورشن کی طرف بھاگی اور اماں کو ساری بات بتا کر ان کو ان کی ھیرانی کے ساتھ چھوڑا اور شامی کباب کا ڈبہ اٹھا کر واپس دوڑ لگائی ۔تو امینہ باجی پکوڑوں کے لیے آلو پیاز کاٹتے پایا جبکہ تبسم کڑاہی میں تیل ڈال رہی تھی۔ پکوڑے اور کباب تلنے اور چاۓ بننے تک ہم تینوں اپنی اپنی جگہ ایک ہی بات سوچ رہے تھے۔ امینہ باجی اور جواد بھائی۔۔۔۔
جیسے ہی امینہ باجی ٹرے لے کر اندر ائیں۔ ہم دونوں نے ایک دوسرے کی طرف معنی خیز نگاہوں سے دیکھا۔۔۔۔
" بھئی آپا! جب جب جواد نے خود امینہ کا نام لیا تو بس ہم۔۔۔۔"
" آؤ۔۔۔۔آؤ بیٹا! امینہ باجی پرنظر پڑتے ہی انکل نے بات کا رخ موڑ دیا۔
" بیٹا! کیسے پیپرز ہوۓ تمہارے؟"
" جی الحمد اللہ! امید ہے کہ پاس ہو جاؤں گی۔"
" ہمارا بیٹا صرف پاس تو نہیں ہوتا۔۔۔ پوزیشن لیتا ہے۔" انکل مسکرانے لگے۔
امینہ باجی نے میزبانی کے فرائض سر انجام دیے اور گفتگو کا موضوع بھانپتی ہوئی ہمارے پاس باہر چلی ائیں۔ ان کو ٹوہ لینے کی عادت تھی نہ ضرورت ۔ رات اماں نے بابا کو انکل اور انٹی کے انے کے بارے میں بتایا کہ " امینہ کے لیے جواد کا پیغام لے کر آۓ تھے۔"
" جواد کے لیے۔۔۔۔؟" بابا حیرت سے بولے۔۔۔۔
" اس کا رشتہ تو۔۔۔۔"
" جی ہاں! میں نے بھی ان سے یہی بات کہی۔" اماں کہنے لگیں " کہ جواد کا رشتہ تو شمائلہ سے طے ہے تو دونوں حیرت سے میرا منہ دیکھنے لگے ۔ کہنے لگے۔ اپ کو کوئی بڑی غلط فہمی ہوئی ہے ۔ ہم تو امینہ بیٹی کے امتحان ختم ہونے کا انتظار کر رہے تھے اور یہ کہ ہم تو شروع ہی سے یہ ارادہ کیے ہوۓ تھے کہ اور جواد سے پوچھا تو اس نے بھی "امینہ " کا ہی نام لیا۔"