اماں کا انداز اور لہجہ بڑا متوازن اور فطری تھا۔ " شمائلہ کی بات پر تو وہ تشویش کا اظہار کر رہے تھے کہ ہم نے تو کبھی شمائلہ کے لیے پیام ہی نہیں دیا کجا بات پکی کرنا۔"
بابا نے بڑے تحمل سے بات سنی اور کہا کہ " بہرحال شمائلہ بھی ہماری بیٹی ہے۔ میں اپنے طور پر شفیق سے پوچھتا ہوں۔"
اگلے روز اماں نے عاصمہ چچی کو ساری بات بتائی اور پریشانی کا اظہار بھی کیا۔ خیر سے پہلا رشتہ تھا وہ بھی اتنی اچھی جگہ سے۔ اماں مضبوط عقیدے کی مالک تھیں اس لیے عاصمہ چچی کو بھی دعا کی غرض سے ہی بتایا اور پریشانی کا اظہار کیا۔ دو چار روز میں ہی ابا نے شفیق چچا سے پوچھ لیا کہ شمائلہ کے لیے جواد کا پیام کس ذریعے سے آیا تھا۔ چچا نے بتایا کہ ان کو تو بس سارہ (چچی) نے بتایا کہ جواد کی والدہ کا شمائلہ کے لیے پیام ہے۔ اس کے علاوہ انہوں نے کوئی پوچھ گچھ نہیں کی۔ کیونکہ سارہ کے بھائی ' بھابی کی ہی تو بات تھی۔
" اللہ! یہ کیا ہو رہا ہے کون چیخ رہا ہے۔۔۔۔" میں یونیورسٹی سے آ کر زرا لیٹی تھی۔ دروازہ کھولنے ہی لگی تھی کہ شمائلہ ا ور سارہ چچی کی اواز پہچان لی اور صد شکر کہ باہر نہیں نکلی کیونکہ ان کے عزائم بڑے جارحانہ تھے۔۔۔۔ اور زبان۔۔۔۔ اف۔۔۔ کہ کیسے ان کی معصوم بیٹی کے حق پر ڈاکہ ڈالا اور یونیورسٹی میں ہی جواد کو پھانس لیا اور وہ مغلظات خدا کی پناہ۔۔۔۔
مجھے اماں کے خیال سے سخت خفت ہوئیاور ان کی فکر بھی۔ جھری سی بنا کر جھانکا تو دیکھا اماں خاموش تخت پر بیٹھی تھیں اور دونوں ماں بیٹی خود ہی چلا چلا کر دیوانی ہوئی جا رہی تھیں ۔ ان کے چلے جانے کا اطمینان کر کے میں کمرے سے نکلی اور اماں سے لپٹ گئی۔
" اماں پیاری اماں! مجھے کسی جواد سے شادی نہیں کرنی۔" میں رو پڑی تھی۔ اماں مجھے لپٹا کر پیار کرتے ہوۓ بولیں۔
" میری بیٹی زرا برابر بھی فکر نہ کرے۔"
رات ہی اماں نے بابا سے بات کر کے طریقے سے جواد کے گھر انکار کہلا دیا کہ شمائلہ بھی ہماری بیٹی ہے۔ بے شک کسی غلط فہمی کی بنا پر وہ اس مغالطے میں مبتلا رہی' ہم اس کی دل ازاری کر کے اپنی بچی کی خوشی نہیں کر سکتے۔ اماں بابا کے اس فیصلے سے " میں " مطمئن تھی مگر ایک اداسی سی در و دیوار پر اتر آئی تھی۔۔۔۔دن خاموش اور راتیں اداس۔۔۔۔ کچھ کھونے کا احساس سا تھا۔ ایسے اداس موسم میں رمضان المبارک شروع ہو گیا۔ میں اپنے دل کی تمام تربے کلی خدا کے حضور پیش کرنے لگی۔
اماں تو شوگر کی زیادتی کی وجہ سے روزے نہیں رکھ سکتی تھیں۔ مگر باقی سب کو یہ توفیق مل رہی تھی۔ بفضلہ اللہ ہمیشہ کی طرح چچی اور تبسم تیار کرتیں۔ ہلکے روغن کے پراٹھے ' دہی اور سالن۔ اور افطار کے لیے میں اور صوفیہ تیاری کر لیتے۔ ہمارے گھروں میں سادہ کھانے کا رواج تھااور رمضان میں سادگی اور بڑھ جاتی۔ فروٹ چاٹ' دہی بھلے' سکنجبین اور کھجور اور افطاری کی میز سج جاتی۔ رات کھانے میں سالن ' چپاتیاں اور خشک چاول۔ میں سالن بنا لیتی کہ صبح سحری میں بھی کام آ جاتا۔ دونوں گھر مل کر یہ کام کر لیتے تو عبادت کا موقع مل جاتا تھا۔