SIZE
4 / 6

" بڑے صاحب کو سوچنے کا وقت نہیں ملتا مانک! تم پریشان کیوں ہوتے ہو بھلا اور کچھ لوگ چاہے برسوں ملتے جلتے رہیں' آشنائی نہیں ہو پاتی اور کچھ پہلی ہی ملاقات میں اپنے اپنے لگتے ہیں ساری اجنبیت غائب ہو جاتی ہے۔ اس پر زرا اثر نہیں ہوا تھا ' الٹا جیسے اپنی کہنے کا موقع مل گیا تھا۔

" بی بی۔۔۔۔ ! میں اپنی اوقات پہچانتا ہوں ۔ اپ بھی اپنی حد نہ بھولیےاپ کی اپنائیت میرے لیے مسائل نہ کھڑے کر دے۔ مجھ میں اتنی ہمت نہیں ہے کہ اپ کے باپ کا مقابلہ کر سکوں' اب چلتا ہوں کل کام پر اؤں گا۔" وہ سیدھا گیٹ سے باہر نکل گیا۔

وہ اس کے لفطوں کی کڑواہٹ کو اسانی سے اپنے اندر اتار نہ سکی۔ اسے لگ رہا تھا کئی ایکڑ کی اراضی پر بنے ہوئے گھر کے ہال کی چھت اس کے اوپر ابھی ابھی گری ہے۔ اور وہ اپنے ارمانوں سمیت زمین میں گڑ گئی ہے۔ زمین کی چادر بند ہو چکی ہےاور اس کے گرد اندھیرا اور گھٹن ہے۔ چکراتے سر کے ساتھ دھندلاتی ہوئی انکھوں نے اس کی پشت کا سفر کیا۔ گیٹ بند ہونے کے بعد وہ بے بسی سے زمین پر بیٹھ گئی۔ وہ رونا نہیں چاہتی تھی مگر انسووں نے انکاری ہو کر سارے بند توڑ دیے اور اس نے دھندلائی انکھوں سے اپنی عالی شان قبر کو دیکھا جسے شیشہ گری سے سجانے کا شوق اسے مانک تک لے ایا تھا۔

ایک دن وہ پھر ائی اور عجیب عجیب سی باتیں کرنے لگی۔ کہنے لگی۔

" مانک! تم اپنا خیال نہیں رکھتے ' تم شیو کیوں نہیں کرتے' کیا حال بنا رکھا ہے اپنا ' بنا سنوار کر کیوں نہیں رکھتے خود کو۔ تمہارے کپڑوں سے ہر وقت پسینے کی بواتی ہے۔ تم نہاتے بھی نہیں پابندی سے۔" وہ اس کا بھرپور جائزہ لیتے ہوۓ بول رہی تھی۔ نجانے اس کے لہجے میں کیا تھا وہ چپ سا رہ گیا۔

وہ خود ہی بول بول کر چپ ہو گئی۔ پھر عجیب الجھن امیز انداز میں اسے دیکھتی رہی ' جیسے اس کو سمجھنے کی کوشش کر رہی ہو۔ پھر اچانک چلی گئی۔

وہ سوچتا رہا۔۔۔۔ ساری رات اور پھر اس کے دل نے اسے تسلی دی کہ وہ بہتر سے بہتر دیکھنا چاہتی ہے ۔ اسے تم سے ہمدردی ہے ۔" اس نے نتیجہ نکالا۔

مگر اج اسے بھی اپنے پسینے کی بو ' بدبو کی صورت لگ رہی تھی' وہ بو جس میں اس کی محننتوں اور مٹی کی خوشبو رچی بسی ہوتی تھی۔

وہ جب بھی خود کو آئینے میں دیکھتا تو اپنی انکھوں میں محبت کا عکس اور دل میں لگن کا جذبہ اسے سرشار سا کر دیتا تھا۔ مگر اس صبح وہ اٹھا تو آئینے سے نظر چراتا رہا۔ نہا کر ایا پھر بھی جیسے بد بو کا تاثر قائم رہا۔ دروازے سے نکلتے وقت قدم بے اعتمادی کا شکار تھے اور تب ڈگمگاۓ جب اس کے دروازے کے اگے سے چمکتی دمکتی گاڑی گزرتے دیکھی' اس میں ہشاش بشاش سا خوبرو نوجوان بڑی ترنگ میں گردن تان کر ڈرائیو کر رہا تھا۔ گاڑی اس کے قریب سے گزر بھی گئی مگر اس کے قدم جیسے زمین کی گیلی مٹی میں جم سے گۓ تھے۔ چمکتی دمکتی گاڑی اس کی دھلی قمیض پر کیچڑ کے چھینٹے اڑا کر گئی تھی۔ دم جیسے الجھ رہا تھا۔ اس نے بے دم سے قدم گھسیٹے ۔ اس دن وہ سارا وقت کام کی تلاش میں رہے عام سی چپل میں مقید گرد آلود پیر گلیوں اور رستوں کی خاک چھانتے اور شام کی تھکن اوڑھ کر رات کو بستر پر دراز ہو گۓ۔