SIZE
2 / 7

"مگر اسکا مطلب یہ تھوڑی ہے عاطف کہ ہم بھی تمہاری طرح حماقت کا مظاہرہ کریں وہ لڑکی مجھے پسند نہیں تو بس بات ختم".

ناخوشگوار انداز کی وجہ سے چہرہ مزید سپاٹ ہوگیا جو کپٹن عاطف کو تاسف میں مبتلہ کر گیا.

اسے خود کو یہ یقین دلانے میں دشواری محسوس ہوئی تھی کہ یہ اسکی نرم خو محبت کرنے والی اپنایت اور اخلاق کی پیکر ماما ہی ہیں.

"ماما جب میری کوئی ڈیمانڈ نہیں تو آپ". چند لمحے لیب بھیچ کر خود کو کومپوز کرتے رہنے کے بعد وہ جیسے ہی بولا منزہ بیگم

بھڑکے هوئے انداز میں اسے ٹوک کر بولیں.

"تمہاری ڈیمانڈ نہیں ہے مگر ہماری تو ہے نا تو کیا اب جو بھی نئی لڑکی ملی گی اسکو تمہاری دلہن بنا دیں عجیب اور فضول منطق ہے بھئی".

متنفر انداز میں کہ کر انہوں نے زور سے سر جھٹکا. تو عاطف نے انکے سرخ دہکتے چہرے کو دیکھا اور اور بغیر کچھ کہے گہرا سانس

کھینچ کر رہ گیا.

دولت، تعلیم، حسن اور فیشن یہ چار چیزیں آج کے دور میں کسی بھی رشتے کے ہونے میں بہت اہم کردار ادا کرتی ہیں. خاندانی نجابت،

مذہب کی پیروی اور اخلاقی اقدار کی پاسداری ثانوی حثیت اختیار کر چکی ہیں لوئر مڈل کلاس سے مڈل کلاس تک کتے ہی ایسے گھر ہوں

گے جہاں رشتہ، مناسب رشتہ نہ ملنے کی وجہ سے لڑکیاں ساری عمر اچھے رشتے کی تلاش میں والدین کی دہلیز پر گزار دیتی ہیں.

روز روز بے دردی سے رد ہوتی ہیں، لڑکیاں چاہے اپنا درد کسی سے نہ کہیں مگر گزرتے وقت کے ساتھ ساتھ بجھتی آنکھیں اور شاکی

لب اس طبقے اور معاشرے کی بے حسی پر نوحہ کناں ہیں. لڑکے والی اپنے سے نیچے دیکھنا پسند نہیں کرتے جہیز کی ڈیمانڈ، نتیجہ یا

تو انتظار رہتا ہے یا تو پھر بے جوڑ شادیوں کی صورت میں سامنے آتا ہے.

عاطف ایک سلجھا ہوا نفیس عادت اور حساس درد مند دل رکھنے والا انسان تھا. یہ محض اتفاق تھا کے بہت سال قبل جب وہ ہوسٹل سے گھر

آنے پر غیر ارادی طور پر منزہ بیگم کی وہ پرسنل ڈائری پڑھ بیٹھا جن میں انکی ذات کا یہی قرب صفحات پر بکھرا پڑا تھا اور گویا عاطف

کے لاابالی مزاج کو یکلخت حسیات کے گہرے احساس سے روشناس کروایا گیا.

پچھلے ہفتے ماما نے جب اپنی تنہائی کس اس سے شکوہ کرنے کے ساتھ ہی اس سے شادی کی بات کی تو اس نے ہاں کرنے کے ساتھ اپنی

واحد شرط بھی بتا دی.

"ہاں بولو کیا شرط ہے". وہ مسکرائی تھیں.

"لڑکی کا خوبصورت اور پڑھا لکھا ہونا ضروری ہے. خاندان بھی اچھا ہونا چاہیے اسکے علاوہ کچھ خاص چاھتے ہو تو بتا دو." انہوں نے

محبت سے اپنے خوبرو اور شاندار بیٹے کو دیکھا تھا. جسکی سنجیدگی اور متانت اس وقت دیکھنے والی تھی.