SIZE
3 / 11

" یہی تو اصل بات ہے نا !" مینا نے مسکراتی نظروں سے انہیں دیکھا۔

"جب ہم " اللہ کرے" اور "اللہ نہ کرے " پر یقین رکھتے ہیں تو پھر اپنے کام بنانے کے لیے غیر ضروری بلکہ فضول سہارے کیوں؟"

”ہاں بھئی جن کے ہاتھوں میں قلم ہوں، ان سے جیتنا مشکل ہوتا ہے وہ بھی ہم جیسے بے چارے لوگوں کا۔" آپی کچھ لاجواب اور کچھ خفا ہو کر خاموش

ہوئیں۔

آئے دن ایک نہ ایک مہربان بہن اپنی محبت دکھاتی ہی رہتی تھیں۔ اس دن بھی وہ گھر کے کام سے فارغ ہو کر اپنی ادھوری کہانی مکمل کرنے بیٹھی ہی تھی کہ ہانپتی کانپتی بجیا آن پہنچیں۔

" بات سنو۔" ایک گلاس ٹھنڈا پانی پی کر ان کے اوسان کچھ بحال ہوئے تو انہوں نے مینا کے قریب ہو کر سرگوشی کی۔

"جی ۔ " اس نے کچھ نیم توجہی سے کہا۔ سارا دھیان تو کہانی اور کرداروں کی طرف تھا۔ کہانی بڑے اہم موڑ پر تھی۔ خیالات اور قلم کی روانی میں یہ "بریک“ اسے کچھ بھایا نہیں۔

" تم سے میں نے تصویر کا کہا تھا ؟"

" میری تصویریں اب اس گھر میں میرے پاس کہاں؟ گنی چنی چند تصاویر ہیں، وہ بھی آپاؤں نے بانٹ لی ہیں۔ کبھی کسی کو دکھانے کے لیے، کبھی کسی کو دکھانے کے لیے۔"

مینا نے آزردگی سے کہتے ہوئے قلم ہاتھ سے رکھ دیا کیونکہ یہ ناممکن تھا کہ بجیا کی موجودگی میں وہ ایک لفظ بھی لکھ پاتی۔

" افوہ میں ان فوٹوز کی بات نہیں کر رہی ہوں۔" بجیا جھنجلا ئیں پھر دوبارہ کہنے لگیں۔

" قبل از مسیح کی تصویریں ہیں وہ تو' ایک نظر ڈالنے کے بعد کوئی دوسری نظر ڈالنا بھی پسند نہیں کرتا ۔ "

" تو پھر کون سی تصویر؟ مینا نے بڑے ضبط اور تحمل سے انہیں دیکھا۔

" ارے بھئی تم سے کہا نہیں تھا کہ فوٹو گرافر سے اچھی سی کچھ تصویریں بنوا لو' اچھی طرح تیار ہو کر۔"

بجیا نے اسے یا د دلایا۔

" اچھا۔۔۔۔۔ وہ۔۔۔۔۔ " مینا نے " اچھا" کو ذرا کھنچتے ہوئے کچھ غائب دماغی سے کہا۔

وہ واقعی بھول گئی تھی کہ ایک ہفتہ پہلے بجیا نے اسے فون پر کیا ہدایت کی تھی بلکہ حکم دیا تھا۔

" مجھے معلوم تھا کہ تم بھول جاؤ گی؟" انہوں نے ناراض نظروں سے مینا کو دیکھا۔

" یہ فضول باتیں بھی کوئی یاد رکھنے کی چیز ہے بھلا۔ " مینا کے لہجے میں وہی ازلی لا پروائی کا عنصر تھا جس سے کبھی کبھی بجیا چڑ جاتی تھیں۔

اور یہی ہوا کہ ان کا مزاج برہم ہونے لگا۔