SIZE
4 / 5

ماضی قریب سے ایک جھجکتی ہوئی پر سوچ نگاہوں والی چلتے چلتے لڑکھڑاتی ہوئے سنبھلتی اور سنبھلتے ہوئے حیرتوں میں ڈوب جانے والی حیرتوں سے چونکتے حال میں لوٹتے منظر سے فرار ہو جانے والی مہر الگ تھی۔

اور یہ پر اعتماد لڑکی ایک اچھے گھر کی مالک دو بچوں کی ماں ایک خوش مزاج شوہر کی بیوی ہونے کے باوجود کسی لہر کی زد میں کیوں آجاتی تھی۔

اب کی بار انہوں نے پکا سوچ لیا بس فون کر کے خوب سارا ڈاٹنا ہے اور سمجھانا ہے کہ اتنی نعمتوں کے ہوتے ہوئے بھی یہ الجھن ایک ناشکری نہیں تو اور کیا ہے۔ نا شکری سے نعمتیں چھن جاتی ہیں۔اور شکر کی تسبیح نعمت کو بڑھا دیتی ہے۔ کلینک سے باہر پارکنگ ایریا میں گاڑی تھی۔

وہ نماز کے وقفے کے بعد مسجد سے کلینک ہی جارہے تھے جب رستے میں قدم رک گئے تھے۔

یہ تو وہی لڑکا تھا جسے ایک خاتون زبردستی ان کے پاس لائی تھیں۔ لڑکا خاصہ اکھڑ مزاج تھا بار بار کہہ رہا تھا کہ مجھے کوئی نفسیاتی مسئلہ نہیں ہے اور ماں کی الگ یہی تکرار کے اس کی سوچوں نے اسے کہیں کا نہیں چھوڑا۔

انہیں نسخہ لیتے ہوئے اندازہ ہورہا تھا کہ وہ باہر نکلتے ہی پرچی پھاڑ کر ڈست بن کے حوالے کر دے گا نہ پھاڑی تو دوا نہیں لے گا۔ لے بھی لی تو کھائے گا نہیں اور اگر ماں نے زبردستی کھلا بھی دی تو اثرنہیں کرے گی۔ اس کے چہرے پر وہی اکھڑ سے تاثر مزاج کی گرمی ظاہر تھی اور جملہ وہی کے دیکھو کون کہتا ہے میں نفسیاتی ہوں میں تمہیں نفسیاتی لگتا ہوں؟ لہجہ تیز تھا۔ تیکھا۔

وہ بینچ پر بیٹھ گئے لڑکا اپنی گفتگو میں مگن تھا۔ انہوں نے اسے زیادہ دیکھنے سے گریزہی کیا کہ نظر کی کشش انسان کو الرٹ کر دیتی ہے۔ بس سننے پر اکتفا کیا۔

" دیکھو سنعیہ میری بات سنو۔ بات دراصل یہ ہے کہ مسائل کئی ہوتے ہیں کئی چھوٹے مسائل ایک بڑی غلطی سے نکلتے ہیں اور پھر چھوٹے چھوٹے زخموں کی طرح رسنے لگتے ہیں۔ مگر تم نہیں سمجھو گی۔" لڑکا کسی لڑکی کو سمجھاتے ہوۓ ہلکان تھا۔

" دیکھو ایک بہت سادہ سی مثال ہے مجھے نفسیاتی کہنے والے سن لیں۔" لڑکے نے کہا اور ان کے کان کھڑے ہو گئے۔

" ہم دو ایک جگہ بیٹھے ہیں کوئی اپنی قیمتی چیز امانتا لے آتا ہے۔ وہ تمہارے بجائے مجھے دیتا ہے اس اعتماد کے قابل وہ مجھے سمجھتا ہے۔ چاہے وہ تم سے پیار کرتا ہو۔ مگر اہمیت اور بھروسے کے قابل تمہیں نہہیں سمجھتا ۔ اہمیت کا حصہ میرے حصے میں آتا ہے تم پر کیا گزرے گی۔" ایک لہر صرف ایک لہر جو مہر کے چہرے پر آ کر ٹھہری تھی اس کے مفہوم کے در کھلنے کا لمحہ تھا۔

" دیکھو میں سب تھےسے چھوٹا تھا۔ مجھے ہر اہم فیصلے سے نکال دیا جاتا تھا۔" لڑکا بول رہا تھا اورانہیں یاد آیا۔

مہر گھر میں سب سے چھوٹی ہے۔ بچی ہے نا سمجھ ہے' شرمیلی بھی ہے جھجکتی ہے اس لیے۔