"میرا جھجکنا' ڈرنا ' چپ رہنا اورکم ہمتی، جو بھی سمجھو اس میں رویوں کا قصور ہے نا کہ میرا۔ میں اس گھر کا چھوٹا بچہ ہوں جہاں خود میرے نصیب کا فیصلہ بھی مجھ سے پوچھے بغیر صرف بتا کر کر دیا جاتا ہے اور تم کہتی ہو میں لڑتا ہوں ' یا چپ رہتا ہوں' سوچتا رہتا ہوں،رنگ کیوں اڑ جاتا ہے چہرے کا۔‘‘
وہ اٹھے لڑکا اب بھی بول رہا تھا ۔ انہیں اپنے الجھے ہوئے سوال کا بہت آسان جواب مل چکا تھا۔ ذہن کی اسکرین پرکل کا دن فلم کی طرح چل رہا تھا۔
وہ ٹیکسٹ جو انہوں نے مہر کو کرنا تھا اس کی نوعیت اب بدل گئی تھی۔ ان کی نظر میں بس ایک منظر تھا جب ملازم پیسے کے لیے بی بی کی بجاۓ صاحب سے بات کررہا ہے۔ بچے پیار تو ماں سے کرتے ہیں مگر اجازت بابا سے لے رہے ہیں۔ شوہر کتنا خیال رکھتا ہے کہ بغیر بتائے گھر سے نکل جاتا ہے۔
اور ہر بار بھروسے اور اہمیت کے کچلنے پر جو لہر اس کے چہرے پر آتی ہے۔ وہ بے وجہ نہیں ہے۔