SIZE
5 / 6

" کاشف' کاشف' رملہ' علی کہاں ہو تم سب۔ مگر بے سود وہ لوگ نجانے کہاں چلے گئے تھے۔ سب لوگ آپس میں اتنے مگن تھے کہ کسی نے بھی میری چیخنے کی اواز نہ سنی۔

" نکالو جتنی اوازیں نکال سکتی ہو اور رہا کاشف وہ ہی تمہیں میرے پاس لایا ہے۔ بقول اس کے بہت ٹاپ چیز ہو تم۔" وہ خباثت سے مسکرایا اور پھر مجھے گھسیٹ کر اندر لے جانے کی کوشش کرنے لگا۔ میں نے بھرپور مزاحمت کی۔ مگر بےسود۔ وہ مجھے گھسیٹ کر سامنے کمرے میں لے آیا۔

" یا اللہ میری عزت بچا لے۔" روتے روتے میں نے پوری شدت سے خدا کو پکارا' شاید وہ لمحے قبولیت کے تھے۔ باہر بہت شور مچا ہوا تھا۔ لوگوں کے دوڑنے کی اوازیں آ رہی تھیں۔ اس سے پہلے کہ آغا مجھ سے مزید بد تمیزی کرتا اس کا موبائل بج پڑا اور نجانے دوسری طرف سے کسی نے کیا کہا۔ وہ مجھے وہاں چھوڑ کر بھاگتا ہوا چلا گیا۔ میں بھی موقع پا کر باہر کی طرف بھاگی۔ مگر باہر بھی ذلت اور شرمندگی میری منتظر تھی۔ باہر اپنے کزن ڈی-ایس-پی وقاص کو دیکھ کر میرے پاؤں کے نیچے سے زمین نکل گئی۔ میرا دل چاہ رہا تھا کہ زمین پھٹ جاۓ اور میں اس میں سما جاؤں۔

مجھے نہیں پتا تھا کہ پولیس وہاں کیوں آئی تھی۔ وقاص کی انکھیں مجھے دیکھ کر جیسے پھٹی کی پھٹی رہ گئیں۔ اس نے مجھ سے کچھ نہ پوچھا پوچھنے کی ضرورت رہی بھی نہیں تھی۔ اس نے فیضان آغا کو کمرے سے نکلتے دیکھا تھا اور اس کمرے میں صرف میں تھی اس نے میرے بھائی کو فون کر کے بلایا اور پچھلے دروازے سے مجھے ان کے ساتھ بھیج دیا۔ مجھے دیکھ کر بھائی کی انکھوں میں جو درد اور کرب تھا۔ وہ دیکھ کر میرا مر جانے کو دل کرتا تھا سارے راستے بھائی نے ضبط کر کے گاڑی چلائی۔ تین بار حادثہ ہوتے ہوتے رہ گیا۔

بھائی گاڑی کھڑی کر کے میری طرف دیکھے بغیر اندر چلا گیا۔ مرے مرے قدموں سے میں خود کو گھسیٹتی اندر آئی سامنے امن بابا اور میرے دو بھائی کھڑے تھے ۔ میں لفظوں میں بیان نہیں کر سکتی کہ میری کیا کیفیت تھی۔ بھائیوں کی انکھیں بالکل سرخ تھیں اج ان کی لاڈلی بہن نے ان کا اعتماد کھو دیا تھا ان کی عزت کو خاک میں ملا دیا۔ رہے بابا جان ' ان کی خاموشی سے مجھے اور بھی خوف آ رہا تھا۔ مجھ میں اندر جانے کی ہمت نہیں تھی۔ میں وہیں دروازے پر رک گئی۔ بابا چلتے ہوئے میرے پاس آۓ۔

" مجھے تم پر بہت مان تھا۔ بہت بھروسہ تھا اور اب مجھے لگتا ہے کہ میری زندگی کی بڑی غلطی تم کو کالج میں داخل کرانا تھا۔ شاید اب میں کبھی بھی تم پر اعتماد نہ کر سکوں ۔ تم نے تو مجھ کو جیتے جی مار دیا۔ ایک پل میں سو بار مرنا کسے کہتے ہیں وہ یہی ہے' جو تم نے کیا۔ " بابا جان ٹوٹے ہوۓ لحجے میں بولے اور میں دل ہی دل میں مرنے کی دعا مانگ رہی تھی۔

" بابا جان میرا کوئی قصور نہیں ہے۔"

" تمہارا قصور کیوں نہیں ہے ۔ کیا وہ لوگ تم کو زبردستی لے گئے تھے۔ تم خود اپنی مرضی سے گئی تھیں۔ ان کے ساتھ' ہمیں بتاۓ بغیر۔"

بابا جان نے امن کو اشارا کیا۔ میں بہت کچھ کہنا چاہتی تھی لیکن زبان ساتھ نہیں دے رہی تھی۔ وہ چاروں غصے سے چلے گئے اور میں روتے ہوۓ امن کے ساتھ لپٹ گئی۔ ماں کی گود میں بہت سکون ہوتا ہے۔