" اگر تم لوگ چاہو تو۔" میں نے ان دونوں بہن بھائی پرامید بھری نظریں ڈالیں۔
چ میں ٹانگ اڑائی۔
" کیا مطلب؟"
" اگر تم دونوں نوفل اور نوفل کی امی کے سامنے میری خوب تعریف کرو' میری اچھائیوں کو پڑھا چڑھا کر بیان کرو تو۔" میں اتنا ہی بول پائی کہ حسب عادت فراز بیچ میں بول پڑا۔
" تم میں اچھائیاں بھی ہیں کیا؟ "
" ہاں ہیں ناں۔ میں خوش مزاج' ملنسار' تمیزدار' صاف دل اور مخلص لڑکی ہوں۔" میں نے خوشی خوشی اپنی خوبیاں بیان کیں۔
" اس سب میں سچ کہاں ہے؟" ناذیہ نے پوچھا۔
”وہ صاف دل کی لڑکی' وہ صحیح نہیں ہے کیا۔" میں نے نازیہ کو یاد دلانا چاہا۔
" ہیں' یہ سچ ہے کیا؟" ناذیہ کی حیرانگی قابل رشک تھی۔
" ہو سکتا ہے کہ سچ ہو' ہمیں کیا پتا اب دل دکھائی تودیتا نہیں ہے۔" فراز بھی کچھ کچھ کنفیوژن کا شکار دکھائی دے رہا تھا۔
" بالکل سچ ہے' میں نے ان دونوں کو یقین دلانا چاہا "اور تھوڑی بہت مبالغہ آرائی تو چلتی ہے۔ مبالغہ آرائی سے تو ناولز اور افسانوں کی شان بڑھتی ہے۔"
" اس تھوڑی بہت میں تھوڑی کہیں نہیں ہے' صرف "بہت ہی بہت" ہے اور بروقت افسانوں اور ناولز کی دنیا میں نہ رہا کرو یہ اصل زندگی ہے کوئی کہانی نہیں۔" فراز بولا۔
" شکر کرو اصل زندگی ہے۔ اگر کہانی ہوتی تو میں یہ بھی نہ دیکھتی کہ تم یہ چندی مندی آنکھوں والی فاریہ کو پسند کرتے ہو۔ میں تو بڑی سیاست سے کوئی چال چلتی اور فاریہ سے تمہارا چکر ختم کروا کے تم سے ہی شادی کر لیتی۔"
" پڑ گیا مجھے دل کا دورہ' ارے کوئی بچائے مجھے۔"فراز دل پکڑے شدید صدمے کے زیر اثر دکھائی دے رہا تھا۔