SIZE
1 / 10

اونچے اونچے درختوں کے درمیان گھری ہوئی ہسپتال کی عمارت پر ایک سکوت سا تاری تھا. چاندنی رات میں درختوں کے

لمبے ساتے اس سکوت کو اور بھی مہیب بناتے دے رہے تھے کبھی کبھی کسی پاگل کے زور زور سے ہسنے یا چیخنے کی

آواز ماحول کے اس سکوت کو توڑ ڈالتی اور وہاں زندگی کا احساس ہونے لگتا.

لیڈی ڈاکٹر سعیدہ اس تھیں. اس کرسی پر لیٹے کتاب سے نگاہیں ہٹائیں اور دیوار گیر کلاک کی طرف دیکھا جس کی ٹک ٹک سے

کمرے میں زندگی کا احساس ہو رہا تھا. کلاک پر چوٹی سوئی دو بجا رہی تھی. اور اٹھی اور آل اوور ایک طرف پھینکا کتاب کو سائیڈ

میں پر میز پر رکھا جگ سے پانی گلاس میں انڈیلا دو تین گھونٹ پینے کے گلاس واپس میز پر رکھا. تھکاوٹ چہرے سے ظاہر تھی.

لیکن نجانے نیند کیوں اسکی آنکھوں سے بہت دور تھی لیکن پھر بھی وہ سونے کے لیے اپنے کمرے میں بچھے پلنگ پر لیٹ گئی.

کبھی کبھی کوئی مریض زور سے قہقہہ لگاتا یا ہچکیوں سے روتا تو پراسراریت اور بڑھ جاتی. سعیدہ اب اس ماحول کی عادی ہو چکی تھی

البتہ اب وہ یہ ضرور سوچتی تھی آخر ان لوگوں کا قصور کیا ہے؟

یہ کیوں زندگی کو اس کے اصل روپ میں دیکھنے سے محروم رهتے ہیں. لیکن اسکا جواب خود اسکا دل ہی دے دیتا.

زندگی اپنے اصل روپ میں بہت تلخ سے سعیدہ بہت تلخ، زندگی جب اپنا نقاب اتر کر سامنے آجاتی ہے تو بہت مکروہ لگتی ہے، اس لئے نہیں

کہ وہ مکروہ ہے بلکے اس لئے کہ زندگی کے گرد چڑھا رکھے ہیں کہ خود اسکی اصل شکل فراموش کر بیٹھے ہیں.

اس وقت بھی اسکا ذہن اسی رو میں بہہ نکلا.

تم آزاد ہو. تم سب آزاد ہو. میں آزاد ہوں. یہ چوکیدار آزاد ہے. اسکے کانوں میں کسی عورت کے زور زور سے بولنے کی آواز آئی.

بائیں ہاتھ پر تھا اور یہ عورت آج ہی یہاں لائی گئی تھی.

جسکا علم اسکو جب وہ نائٹ ڈیوٹی پر آکر مریضوں کا چارٹ دیکھ رہی تھی. یہ پاگل خانہ شہر سے دور ایک تنہا سے مقام پر واقع تھا

جس میں سو کے قریب دماغی مریضوں کو داخل کرنے کی گنجائش تھی.

"ہا.......ہا ......ہا ........ یہ قہقہے غالباً ووہی عورت لگا رہی تھی. سعیدہ اس ماحول کی عادی ہو چکی تھی. مگر پتا نہیں کیوں آج یہ قہقہے اسکو

اپنی طرف بلا رہے تھے.

وہ اٹھی. اور اپنا اور آل دوبارہ پہنا اور دروازہ جو وہ رات کو اندر سے بند کر لیا کرتی تھی. آہستہ سے کھولا اور اسکے کمرے کی طرف چل

دی. اسکی جوتی کی آواز برآمدے میں زندگی کا احساس دلانے لگی. وہ تیسرے کمرے کے سامنے جا کر کھڑی ہوگئی. وہ نئی مریضہ

دوسری طرف منہ کے گھٹنوں میں سر دے بیٹھی تھی. بہت سکون و اطمینان سے اسکے لمبے بال کمر پر بکھرے هوئے تھے. اور اسکے