SIZE
1 / 5

وہ میرا دوست نہیں تھا بس جان پہچان والا ایک حوالہ تھا جس سے راہ چلتے کبھی کبھی ہیلو ہائے ہو ہی جاتی ہے۔ میں ایسے رشتوں سے ہمیشہ گھبراتا ہوں' جو خوامخواہ مہمان بن کر آپ کے سر ہو جائیں ہمیں اپنا مانو' ورنہ کرتے ہیں خود کشی۔ ضمیر ایسا ہی شخص تھا جو مری جان کو آ گیا تھا۔ دفتر میں ہم دونوں ہی کلرک تھے مگر میری اوپر کی آمدن میری تنخواہ کا حساب بے باق کر دیا کرتی تھی۔ یہی وجہ تھی جو ضمیر کو مجھ سے جوڑے رکھتی ۔ ادھار کے لیے ہمیشہ اس کا ہاتھ مرے سامنے دراز رہتا اور کسی کو خیرات کی طرح ادھار دینے کی لذت کا جو کمینہ پن ہے اس کا مزہ میں اپنی بیوی عالیہ کے ہزار بار کے جھگڑوں اور ٹنٹنوں کے باوجود کھونا نہیں چاہتا تھا مگر اس دن تو حد ہی ہو گئی۔ میں اپنے دو دوستوں کے ساتھ لنچ کا پروگرام بنا بیٹھا اور مروتاََ اس سے بھی پوچھ لیا۔

" تم بھی چلو گے کیا ؟"

اس کی باچھیں کھل گئیں۔ آج سے پہلے کہاں اسے کسی اچھے اور مہنگے ہوٹل کا کھانا نصیب ہوا تھا۔ باقی دو دوست تو اپنا خرچا خود کرنے والے تھے مگر مجھے پورا حق دوستی نبھانا تھا' وہ دونوں میری حالت پر ہنس رہے تھے اور مجھے ضمیر پر غصہ آ رہا تھا یہاں تک کہ ہم لنچ کے لیے کاشف کی گاڑی پر ہوٹل پہنچے۔ گاڑی کی رفتار دھیمی ہوتی ہی تھی کہ ضمیر کے وجود نے بدن تولنا شروع کیا۔

کاشف کسمسایا "مینرز ضمیر! دربان خود دروازه کھولے گا۔"