گلابی شام کو روشن پیشانی اور بڑی بڑی آنکھوں والی تانیہ رخصت ہو کر ان کے گھر آئی تو زارا بیاہ کر سسرال سدھار گئی۔
بہو کے حوالے سے جتنے خدشات ان کے ذہن میں تھے وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ سب دم توڑ گئے۔ تانیہ بہت سلجھی ہوئی اور خوش مزاج لڑکی تھی۔ بہت جلد وہ سسرال میں ایڈجسٹ ہو گئی تھی اور گھر کی ساری ذمہ داریاں اس کو سونپ کر آج کل رفیعہ بیگم چین واطمینان کے مزے لوٹ رہی تھیں۔
زارا کے سسر کی طبیعت کچھ نا ساز تھی۔ رفیعہ بیگم کا تو اتنے دنوں سے زارا سے ملنے کو جی چاہ رہا تھا' ان کی عیادت کے بہانے انہوں نے عادل کے ساتھ زارا کے سسرال جانے کا پروگرام بنا لیا۔
" امی! اسفر لمبا ہے اور گرمی بہت' کچھ دن ٹھہر کر نہ چلیں؟" عادل نے اگرچہ ٹرین کی سیٹیں ریزرو کروالی تھیں پھر بھی موسم کی شدت کی وجہ سے وہ کچھ گھبرا رہا تھا۔
" گرمیاں تو ابھی بہت لمبی چلیں گی بیٹا! اور تمہیں کب سے زارا کی طرح گرمی سے گھبراہٹ ہونے لگی۔" انہیں بیٹی یاد آئی تو مسکرا کر اس کا حوالہ دیا
عادل بھی ہنس پڑا۔
" نہیں، میں تو آپ کی وجہ سے کہہ رہا تھا۔ چلیں پھر ٹھیک ہے تیاری کریں۔"
اور انہوں نے اپنی تو کیا تیاری کرنی تھی، البتہ زارا کے لیے اس کی پسند کے رنگوں کے لان کے تین چار سوٹ خرید لیے۔ ایک سوٹ زارا کی ساس کے لیے بھی خریدا۔ اس کے سسرال والے چونکہ دور پار کے عزیز بھی تھے سو ان کے ہاں جا کر کسی قسم کی اجنبیت کا احساس نہ ہوتا تھا۔ سارا خاندان ہی بہت ملنسار تھا۔ اب بھی سب لوگوں نے ان کی آمد پر بہت خوشی کا اظہار کیا۔ سب سے زیادہ خوش تو زارا ہی تھی۔
شادی کے بعد وہ خود تو کئی بار میکے کا چکر لگا چکی تھی' البتہ ماں بھائی پہلی بار اس سے ملنے آئے تھے اور عادل تو زارا کو دیکھ دیکھ کر حیران ہو