SIZE
1 / 6

ابوجی بے آواز قدموں سے چلتے علی کو جگانے آ ئے تھے۔ یہ خاموشی دانستہ تھی کیونکہ انہیں اپنے ہاتھ میں تھامی چھڑی کا استعمال بہت مرغوب تھا۔ اگر آواز سے علی اٹھ جاتا تو بلا سبب چھڑی مار کر اس کا واویلا سننے کا فی الحال کوئی ارادہ نہیں تھا۔ انہیں کمرے کا رخ کرتے دیکھ کر پیچھے پیچھے سیف بھی چل دیا۔ علی بھائی کے جاگنے کے انتظار میں وہ بہت دیر سے آیا بیٹھا تھا۔

بے سدھ سوۓ علی کی ٹانگ میں چھڑی کی نوک چبھوتے ابو نے آواز دی "اٹھ جا نا ہنجار، بے چارہ سنی تمہارے انتظار میں بھوکا بیٹھا ہو گا، جاؤ اسے ناشتا کراؤ۔"

کہتے کہتے وہ چھڑی اس کی کمر میں رسید کر چکے تھے۔ سیف بے اختیار ایک قدم پیچھے ہوا۔ سنی کو تو وہ نہیں جانتا تھا لیکن ابا جی سے خوب واقف تھا۔ سو علی بلبلا کر اٹھ بیٹھا۔

" سنی کے ناشتے ، کھانے کی فکر میں ہلکان رہتے ہیں۔ میں آپ کا اکلوتا بیٹا، مجھے ناشتے میں مار کھلاتے ہیں۔" اس کی تلملاہٹ حسب سابق ان بے اثر ثابت ہوئی۔

"ہونہہ، اکلوتا بیٹا، ایک سکہ وہ بھی کھوٹا۔ میری چڑیاں تو اڑ گئیں ، گھر کی رونق۔ ہم بوڑھے اب تمہارے آسرے پررہ گئے۔ اٹھ جاؤ پوستی مارے فہیم کا فون بھی آ چکا ہے۔ میں تو شرمندگی کے مارے اسے بتا بھی نہیں سکا کہ بے چارہ سنی اب تک بھوکا بیٹھا ہے۔ کیا گزرتی اس کے دل پر انتہائی رنجیدگی

کے عالم میں وہ تقریر کررہے تھے۔ نہ وہ خود اپنے مظلوم بوڑھے تھے نہ فہیم اتنا کمزور دل ۔ لیکن جذباتی ہونے اور کرنے کا انہیں بہت شوق تھا۔ اس وقت فہیم سامنے ہوتا تو علی اسے ایک، دو ہاتھ تو ضرور لگا دیتا۔

اچھی طرح جانتا تھا کہ یہ صبح' شام کے فون سنی کی فکر سے زیادہ علی کی

"خاطر تواضع" کے لیے کیے جا رہے ہیں۔ اس کے ابو جی جو ویسے تو بہت سیانے تھے لیکن فہیم کی ہر فون کال کے بعد فکر مندی کے عالم میں علی کی کلاس لیتے اور فہیم کا مقصد پورا ہوتا۔

" چڑیاں نہیں مرغیاں تھیں آپ کی، ہر وقت ٹھونگے مارنے والی اور شور مچانے والی۔ فہیم کو بھی کہہ دیں لے جاۓ اپنا لا ڈلا اتنی فکر ہے تو " اس نے تنک کر جواب دیا ۔ان تین بڑی مرغیوں اوہ سوری بہنوں نے کبھی اسے اکلوتے بیٹے یا گھر کے چھوٹے بچے کی حثیثت سے لاڈ نہیں اٹھوانے دیے تھے۔ یہ نہیں تھا کہ اس سے کوئی محبت نہ کرتا ، وہ اپنے ابو کا جگری دوست تھا لیکن وہ جنت کا ٹکٹ نہیں تھا اور دنیا کی نعمتوں کو تو ابو جی چھڑی کی نوک پر رکھتے تھے۔ ابھی ابھی اس کی بات پر انہیں ایک دم غصہ آیا تو بلا لحاظ چھڑی استعمال کی اور علی بے اختیار " اففف" کر کے رہ گیا۔ پیار سے اور غصے سے مارنے کا فرق واضح ہو گیا تھا۔

" سنی کیوں جائے ، اس سے پہلے میں تمہیں نہ نکال دوں ۔۔۔ "وہ غصے میں بول رہے تھے، ان کا غصہ دیکھ کر سیف دروازے سے ہی غائب ہو گیا۔

سیف کی اماں یہاں کام کرتی تھی۔ بچپن کا آنا جانا تھا۔ اتنا بے وقوف نہیں تھا کہ ایسے منظر نامے میں عزت افزائی کروانے داخل ہوتا ۔ کچن کی طرف آیا تو اماں ایک بڑے پیالے میں چائے نکال رہی تھیں۔ ٹرے میں چائے کے پیالے کے ساتھ پاپے رکھتے اماں نے اسے تھمائی۔

" چھت پر لے جاؤ' ابھی علی بھائی آۓ گا سنی کو ناشتا کروانے تو کر لینا بات۔"

" یہ سنی ہے کون اماں؟"