اس رات بازار سے واپسی پہ اماں کو چوڑیوں کے جتنے بھی پیسے ملے تھے تھے ' ' اماں نے اس کی دو لالٹینیں خرید لی تھیں . ان کی روشنی میں وہ رات کا پیشتر حصہ چوڑیوں کی سجاوٹ کرتیں . دن میں باقی سب کی نسبت زیادہ سوتیں پھر اٹھ کر چمنی پہ آ بیٹھتیں . پھر ایک ایک کر کے سب بہنیں رات کو ان کے ساتھ بیٹھ کر چوڑیاں اور کڑے سجانے لگیں . دو سے تین ٹھیلے والوں نے بھی ان سے مال خریدنا شروع کر دیا .
پہلے پہل اماں ان کے ساتھ مال دینے جاتی تھی ' لیکن جوڑوں کی تکلیف کے با عث صرف مینا اور بالی ہی مال سپلائی کرنے کے لئے جانے لگیں . پھر کچھ دکانیں چھوڑ کر ایک بڑی چوڑی والی دکان والے نے بھی ان کو آرڈر دیا . سامان بھی وہی دیتا تھا . بس کرنا یہ ہوتا تھا کہ گاہک اپنی مرضی کا ڈیزائن اور رنگ بتاۓ گا اور انھیں ویسی ہی چوڑی بنا کر دینا ہوتی تھی . چوڑی پر نام لکھنے والی تکنیک بھی ان دو نوں نے سیکھ لی .
شروع شرو ع میں جب وہ بازار جانے لگیں تو ایک دو مرتبہ ان کو ایک ٹھیلے والے سموسے لے دیے . ان کے تو مزے ہو گئے . پھر جتنی بار وہ جاتیں ' وہ کبھی سوڈے کی بوتل تو کبھی چپس منگوانے لگا . ان سے باتیں کرتا لطیفے سناتا . ایک دن چھوٹے نے دیکھ لیا . اس نے بھی ان سے بوتل مانگی ' لیکن دونوں نے انکار کر دیا . بدلے کے طور پر اس نے اماں کو ان کی شکایت لگا دی .
اماں نے سنا تو دونوں کو دھنک کر رکھ دیا . پھر بھی چین نہ پڑا تو مینا کو چمی کے سامنے لے گئیں اور لگی آگ لگانے ' لیکن سب بہنوں نے مینا کو اماں سے جھپٹ لیا . کاکی اس کو چھت پر لے گئی .
پھر شامت آئی چھوٹے کی ' اس رات چھوٹے نے غیرت کے وہ سب سبق پڑھ لئے جو پڑھتے پڑھتے عمر لگ جاۓ یا بہت سو کی تو عمر بھی کم پڑ جاۓ .. اس رات مینا اور بالی کو بھی بہت سے سبق پڑھائے گئے . چھوٹی آپا اور کاکی جو بھی مناسب لفظ استعمال کر سکتی تھیں سب کر لئے . اماں نے سب بڑیوں کو چھوڑ کر صرف مینا اور بالی کا انتخاب ہی کیوں کیا . بڑی اپپا اور چھوٹی آپا نے کیوں گھر سے باہر جا کر کام کرنا بند کر دیا ....یہ معاشرہ مرد کا معاشرہ .... عورت کیسے اپنی جگہ بناتی ہے کہ مردوں کے ہجوم سے بھی گزرے اور ان کو .
زندگی کی کتاب کا وہ باب جسے "عزت اور غیرت " کہتے ہیں اس کے سب ہی ورق پلٹے گئے .
سات ' نو اور گیارہ سال کے " پکے " محنت کشوں کے " کچے" ذہنوں کے لئے وہ رات بہت بھاری تھی .
پھر یوں ہوا کہ مینا اور بالی کو پرواز کے نئے طریقے آ گئے . کوئی انھیں بلاتا یا روکتا تو وہ چونک کر پلٹتی نہ تھیں بلکہ ان کی رفتار میں اور تیزی آ جاتی تھی . باہر نکلنا مجبوری تھی کسی نہ کسی کو تو نکلنا ہی تھا کیونکہ گھر پر بیٹھ کر کام کرنے اور اپنا استحصال کروانے میں اور مال سیدھا دکانوں میں فروخت کرنے میں بہت فرق تھا . اب وہ مارکیٹ میں آ گئی تھیں . گھر میں وہ اور ان کا ہنر اوجھل تھا . ان کے کام کی تعریف گاہک ان کے سامنے ہی کرتا تھا . انھیں پیسے بھی زیادہ ملتے تھے .