SIZE
5 / 9

اس میں سنگ مر مر کے نا زک نا زک ستون بنائے گئے تھے ۔دیواروں پر خوش نما پچی کاری کی گئی تھی ۔ فرش چمکدار پتھر کا بنایا گیا تھا ۔ جب سنگ مر مر کے ستونو ں کے عکس اس فرش زمردیں پر پڑتے تو ایسا معلوم ہوتا گویا سفید براق پروں والے راج ہنسوں نے اپنی لمبی لمبی گردنیں جھیل میں ڈبو دی ہیں۔

بدھ کا شبھ دن ، اسی بستی میں آنے کے لئے مقرر کیا گیا۔ اس روز اس بستی کی سب بیسواو ¿ں نے مل کر بہت بھاری نیاز دلوائی۔ بستی کے کھلے میدان میں زمین کو صاف کرا کر شامیانے نصب کر دئیے گئے۔ دیگیں کھڑکنے کی آواز اور گوشت اور گھی کی خوشبو، بیس بیس کوس سے فقیروں اور کتوں کو کھینچ لائی۔ دوپہر ہوتے ہوتے پیر کڑک شاہ کے مزار کے پاس جہاں لنگر تقسیم کیا جاتاتھا اس قدر فقیر جمع ہو گئے کہ عید کے روز کسی بڑے شہر کی جامع مسجد کے پا س بھی نہ ہوئے ہونگے۔ پیر کڑک شاہ کے مزار کو خوب صاف کروایا اور دھلوایا گیا اور اس پر پھولوں کی چادر چڑھائی گئی اور اس مست فقیر کو نیا جوڑا سلوا کر پہنایا گیا، جسے اس نے پہنتے ہی پھاڑ ڈالا۔

شام کو شامیانے کے نیچے دودھ سی اجلی چاندنی کا فرش کردیا گیا۔ گاو ¿ تکیے، پان دان، پیک دان، پیچواں دانی اور گلاب پاس رکھ لیے گئے اورراگ رنگ کی محفل سجائی گئی۔ دور دور سے بہت سی بیسواو ¿ں کو بلوایا گیا جو ان کی سہلیاں یا برادری کی تھیں۔ان کے ساتھ ان کے بہت سے ملنے والے بھی آئے جن کے لئے ایک الگ شامیانے میں کرسیوں کا انتظام کیا گیا اور ان کے سامنے کے رخ چقیں ڈال دی گئیں۔ بے شمار گیسوں کی روشنی سے یہ جگہ بقعہ نور بنی ہوئی تھی۔ ان بیسواو ¿ں کے توندل سیاہ فام سازندے زربفت اور کمخواب کی شیروانیاں پہنے، عطر میں بسے ہوئے پھوئے کانوں میں رکھے ، ادھر ادھر مونچھوں کو تاو ¿ دیتے پھرتے اور زرق برق لباسوں اور تتلی کے پرسے باریک ساڑیوں میں ملبوس، غازوں اور خوشبوو ¿ں میں بسی ہوئی نازنین اٹھکیلیوں سے چلتیں اور رات بھر رقص اور سرور کا ہنگامہ برپا رہا اور جنگل میں منگل ہو گیا۔

دو تین دن کے بعد جب اس جشن کی تھکاوٹ اتر گئی تو یہ بیسوائیں ساز و سامان کی فراہمی اور مکانوں کی آرائش میں مصروف ہوگئیں۔ جھاڑ، فانوس، ظروف، بلوری، قد آدم آئینے، نواڑی پلنگ، تصویریں اور قطعات سنہری، چوکٹھوں میں جڑے ہوئے لائے گئے اور قرینے سے کمروں میں لگائے گئے اور کوئی آٹھ روزمیں جا کر یہ مکان کیل کانٹے سے لیس ہوئے۔ یہ عورتیں دن کا بیشتر حصہ تو استادوں سے رقص و سرود کی تعلیم لینے، غزلیں یاد کرنے، دھنیں بٹھانے، سبق پڑھنے، تختی لکھنے، سینے پرونے، کاڑھنے، گراموفون سننے، استادوں سے تاش اور کیرم کھیلنے، ضلع جگت، نوک جھونک سے جی بہلانے یا سونے میں گزارتیں اور تیسرے پہر غسل خانوں میں نہانے جاتیں، جہاں ان کے ملازموں نے دستی پمپوں سے پانی نکال نکال کر ٹب بھر رکھے ہوتے۔ اس کے بعد وہ بناو ¿ سنگھار میں مصروف ہوجاتی۔

جیسے ہی رات کا اندھیرا پھیلتا، یہ مکان گیسوں کی روشنی سے جگمگا اٹھتے جو جا بجا سنگ مر مر کے آدھے کھلے ہوئے کنولوں میں نہایت صفائی سے چھپائی گئے تھے اور ان مکانوں کی کھڑکیوں اور دروازوں کے کواڑوں کے شیشے جو پھول پتیوں کی وضع کے کاٹ کر جڑے گئے تھے۔ ان کی قوس و قزح کے رنگوں کی سی روشنیاں دور سے جھلمل جھلمل کرتی ہوئی نہایت بھلی معلوم ہوتیں۔ یہ بیسوائیں، بناو ¿ سنگار کئے برآمدوں میں ٹہلتی، آس پاس والیوں سے باتیں کرتیں، ہنستیں کھکھلاتیں۔ جب کھڑے کھڑے تھک جاتیں تو اندر کمرے میں چاندنی کے فرش پر گاو ¿ تکیوں سے لگ کر بیٹھ جاتیں۔ ان کے سازندے ساز ملاتے رہتے اور یہ چھالیہ کترتی رہتیں۔ جب رات ذرا بھیگ جاتی تو ان کے ملنے والے ٹوکروں میں شراب کی بوتلیں، پھل پھلاری لیے اپنے دوستوں کے ساتھ موٹروں یا تانگوں میں بیٹھ کر آتے۔اس بستی میں جن کے قدم رکھتے ہی ایک خاص گہما گہمی اور چہل پہل ہونے لگتی۔نغمہ و سرود، ساز کے سر، رقص کرتی ہوئی نازنینوں کے گھنگھرو ¿ں کی آواز، فلفل مینا میں مل کر ایک عجیب سرور کی سی کیفیت پیدا کردیتی۔ عیش و مستی کے ان ہنگاموں میں معلوم بھی نہ ہوتا اور رات بیت جاتی۔

ان بیسواو ¿ں کو اس بستی میں آئے ہوئے چند روز ہی ہوئے تھے کہ دکانوں کے کرایہ دار پیدا ہو گئے۔ جن کا کرایہ اس بستی کو آباد کرنے کے خیال سے بہت ہی کم رکھا گیا تھا۔ سب سے پہلے جو دکان دار آیا وہ وہی بڑھیا تھی جس نے سب سے پہلے مسجد کے سامنے درخت کے نیچے خوانچہ لگایا تھا۔