SIZE
1 / 12

"سر! آج اپنی شادی کی تصویریں دکھائیں گے؟" اس نے کام کرتے کرتے اچانک عجیب سی بات کی اور پھر سر کے بگڑتے تیور دیکھ کے سہم گئی۔ "معاف کیجئے گا سر ! شاید مجھے اس طرح نہیں کہنا چاہیے تھا۔"

" ہاں میں وہی سوچ رہا تھا۔۔۔۔۔ یہ اچانک لکھتے پڑھتے تصویروں کی کیا سوجھی۔"

پھر وہ بھی چپ ہو گئی اور رجسٹر پر اس کی آنکھیں جم سی گئیں۔ اچھے بھلے لفظ ٹوٹے ٹوٹے سے اور دن کی روشنی میں ڈھلتے سائے جیسے ماحول سے اکتا ہٹ سی ہونے لگی۔

" تم کام ختم کر لو پھر دیکھ لینا۔ " اب کے کمرے کا سکوت مسز انصاری نے توڑا جو وہاں چائے کے خالی مگ اٹھانے آئی تھیں۔ انصاری صاحب پان بنانے لگے۔ کمرے میں پاندان کی کھڑکھڑاہٹ سے ترنم پھوٹا ورنہ ایسا لگ رہا تھا ، ساشا نے بہت ہی غلط بات کر دی۔ چائے کے برتن کچن میں دھو دھلا کے رکھنے کے بعد وہ کمرے میں لوٹیں تو انصاری صاحب کو بلند آواز میں ریاضی کا کوئی فارمولا ڈسکس کرتے دیکھا۔ ساشا کے ہاتھ جلدی جلدی چل رہے تھے۔ اس گہرے انہماک کے باوجود اس کی نظرالبم پر پڑی تو وہ مسز انصاری کو دیکھ کر مسکرا دی۔

" تھوڑی دیر بریک کر لیں ۔ " مسز انصاری نے فرمائش بھی کی اور سفارش بھی ، جسے سرنے مان لیا۔

ساشا نے بہت خوشی سے البم کی طرف ہاتھ بڑھایا۔

" بھئی کیا رکھا ہے اب پرانی تصویروں میں ۔ شادی بھی پرانی بلکہ ہم بھی پرانے آوٹ ڈیٹڈ ۔" اچانک ان کی نظریں بیگم کی طرف اٹھیں تو جملہ ادھورا چھوڑ کر ساشا کی جانب متوجہ ہو گئے۔

ایک تصویر میں نظر آ رہا تھا کہ پتھر کی اینٹوں سے بنا ایک صحن ہے چھوٹا سا اور کچھ لوگ سہرا بندی میں حصہ لے رہے ہیں۔

"یہ آپ کی بھابھی ہوں گی۔ آنکھوں میں سرمہ تو وہی لگایا کرتی ہیں ۔ " ساشا خوش ہو کر بولی۔

" اگر بڑی بہن ہوں تو یہ ذمہ داری بہن کی ہوتی ہے۔ باقی رسماََ کوئی بھی بھابھی لگا دیتی ہے۔ " مسز انصاری نے وضاحت کی۔ دراصل یہ ان کی بڑی بہن ہیں جو اب کینیڈا منتقل ہو گئی ہیں۔

"سر! آپ بہت اسمارٹ لگ رہے ہیں ۔ " ساشا نے دولہا اپنے سر کے بارے میں رائے دی۔